ہمارے ہاں رواج ہے کہ ہر نئی غذا کھا کر اپنے آپ کو روشن خیال اور ترقی یافتہ سمجھنے لگتے ہیں جبکہ پاکستانی کھانوں میں اتنی اقسام اور ذائقے ہیں کہ دنیا کا کوئی ملک مقابلہ نہیں کرسکتا۔ یہاں تو صرف مسور کی دال ہی ایسی بنتی ہے کہ محاورے وجود میں آجاتے ہیں
حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!اللہ آپ کو انسانیت کے لیے شجرسایہ دار بنائے رکھے آمین۔
پاکستانی ذائقوں کا مقابلہ
ہمارے ہاں رواج ہے کہ ہر نئی غذا کھا کر اپنے آپ کو روشن خیال اور ترقی یافتہ سمجھنے لگتے ہیں جبکہ پاکستانی کھانوں میں اتنی اقسام اور ذائقے ہیں کہ دنیا کا کوئی ملک مقابلہ نہیں کرسکتا۔ یہاں تو صرف مسور کی دال ہی ایسی بنتی ہے کہ محاورے وجود میں آجاتے ہیں جیسا کہ یہ منہ اور مسور کی دال یہ محاورہ اس وقت بنا جب مغلیہ سلطنت کا خاتمہ ہوگیا اور ایک شاہی باورچی تلاش معاش میں ایک ہندو راجے کے دربار سے منسلک ہوگیا۔ راجہ نے مسور کی دال کھانے کی فرمائش کی۔ باورچی نے تمام شاہی مصالحہ جات منگوا کر دال پکائی طعام خانے کے انچارج نے حسد کی وجہ سے اس پر اٹھنے والے اخراجات کی ایک لسٹ بنائی اور فوراً راجہ کو پیش کردی راجہ نے جب لسٹ دیکھی تو باورچی کو ریاست بدر کرنے کا حکم جاری کردیا لیکن جب راجہ صاحب نے دسترخوان پر مسور کی دال کھائی تو انگلیاں چاٹتے رہ گئے فوراً باورچی کو طلب کیا مگر باورچی جاچکا تھا۔ اس نے باورچی کی تلاش میں ہر کارے دوڑائے آخر ایک شخص نے باورچی کو جالیا اور راجہ کے فرمان کے بارے میں بتایا لیکن اس کا دل اس قدر ٹوٹ چکا تھا کہ اس نے کہا کہ یہ مسور کی دال صرف مسلمان فرمانروا ہی کھاسکتے ہیں تم لوگوں کا راجہ نہیں کھا سکتا۔ جاکر راجہ سے کہنا یہ منہ اور مسور کی دال۔ اور مسور کی دال تو ہم لوگ بھول ہی چکے ہیں اب ہم برگر، پیزا اور سینڈوچ کھانے والے لوگ ہیں۔ چائنیز سالٹ ہمارے ہاں بیس پچیس برس قبل متعارف ہوا تھا اور اب ہمارے باورچی خانے کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ جبکہ ہم لوگوں نے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی کہ یہ کیا ہے۔ یہ گلے سڑے گوشت، فروٹ اور سبزیوں سے جن میں سنڈیاں پڑچکی ہوں، کشید کرکے بنایا جاتا ہے جو کہ ناصرف حرام ہے بلکہ غذائی ماہرین کی رائے کے مطابق ڈیپریشن‘بدخوابی‘افسردگی‘ کینسر، ہیپاٹائٹس، ہائی بلڈپریشر اور معدے کے السر کا باعث ہے۔ اس سے ناصرف فالج ہونے کا خدشہ رہتا ہے بلکہ ہارٹ اٹیک ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اس کا اصل نام سوڈیم گلوکومیٹ ہے۔
پڑھی لکھی ماؤں کی کوتاہی
ہماری پڑھی لکھی مائوں نے گھر میں مایونیز اور چکن سپریڈ کے پیکٹ رکھے ہوئے ہیں۔ بچوں کو لنچ میں برگر یا سینڈوچ بناکر دے کر سمجھتی ہیں کہ ہم نے بازاری کھانوں سے بچوں کو بچالیا ہے۔ چکن سپریڈ اور مایونیز میں سوڈیم گلوکو میٹ شامل ہے لہٰذا جب بھی بازا ر سے ایسی چیزیں خریدیں تو ان کے اجزاء ضرور پڑھ لیں جن چیزوں میں سوڈیم گلوکومیٹ شامل ہو ان چیزوں سے خود بھی بچیں اور اپنے بچوں کو بھی بچائیں۔ چکن سپریڈ اور مایونیز کی بجائے برگر یا سینڈوچ پر مکھن لگائیں۔ دیسی گھی لگادیں یا پھر دودھ کی بالائی بہترین چیزہے بلکہ ایسے کھانے پیٹ بڑھنے سے بچنے کیلئے اور پڑھنے والے بچوں کے لیے ضروری ہے۔
تندوری روٹی کے ساتھ چٹنی کا کمال
بہتر یہ ہے کہ گندم کے آٹے میں تھوڑا سا بیسن ملائیں نمک، مرچ، میتھی، زیرہ اور تھوڑا سا پسا ہوا مصالحہ ڈال کر بچے کو لنچ کے لیے آلو یا مولی والا پراٹھا بناکر دیں۔ یہ تمام چیزیں بچے کو صحت بھی دیں گی اور توانائی بھی میری تمام بہنوں سے درخواست ہے کہ خدارا اپنے سادہ اور روایتی کھانوں کی طرف واپس آجائیں۔ گائوں کے غریب بچے باسی روٹی لسی کے ساتھ کھا کر بھی سرخ و سپیداور خوشحال اور مطمئن ہیں ۔ ان کے لنچ میں ایک تندوری روٹی کے ساتھ سرخ مرچ کی چٹنی رکھی ہوتی ہے اور وہ ماشاء اللہ صحت مند ہیں جبکہ شہر کی پڑھی لکھی ماں کے بچے پھولے ہوئے جسموں والے ہیں یہی لگتا ہے کہ کوئی برگر ہے کوئی پیزا اور کوئی شوارما ہے۔
حضرت حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی (دامت برکاتہم) فاضل طب و جراحت ہیں اور پاکستان کونسل سے رجسٹرڈ پریکٹیشنز ہیں۔حضرت (دامت برکاتہم) ماہنامہ عبقری کے ایڈیٹر اور طب نبوی اور جدید سائنس‘ روحانیت‘ صوفی ازم پر تقریباً 250 سے زائد کتابوں کے محقق اور مصنف ہیں۔ ان کی کتب اور تالیفات کا ترجمہ کئی زبانوں میں ہوچکا ہے۔ حضرت (دامت برکاتہم) آقا سرور کونین ﷺ کی پُرامن شریعت اور مسنون اعمال سے مزین، راحت والی زندگی کا پیغام اُمت کو دے رہے ہیں۔ مزید پڑھیں