شیخ الوظائف حضرت حکیم محمد طارق محمود مجذقبی چغتائی دامت برکاتہم العالیہ
جسم کی نعمتیں:محترم دوستو! اللہ پاک جل شانہٗ نے سارا جسم ہمیں عطا کیا ہے، کبھی ہم نے اپنے جسم پر غور کیاہے کہ اللہ پاک نے ہمیںیہ جسم کیوں دیاہے؟ہمارے جسم کے ایک ایک عضو ، ایک ایک حصے میں اللہ پاک نے اپنی شان کو بیان کردیاہے۔ ہم اپنے دماغ کو دیکھیں ، دل کو دیکھیں، آنکھوں کو دیکھیں ہرعضو اللہ کی عطا کردہ نعمت ہے اور اللہ پاک نے ہمارے جسم کے ہر حصے کو اپنی محبت سے بنایا ہے، یقین جانیےاَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ اللہ تعالیٰ نے جسم کے ہر حصے کو اپنی خصوصی محبت اور خصوصی پیار سے بنایا ہے پھر اللہ پاک نے ہمیںجسم مفت دیا ہے۔ہمارے لیے ایسا قانون بھی ہو سکتا تھاکہ ہر سال اس جسم کی کٹوتی ہوتی۔ ایسا قانون ہو سکتا تھا اور اللہ جل شانہٗ ایسا کرنے میں حق بجانب تھے لیکن اُنہوں نے جسم کی ساری مشین مفت میں دے دی۔
ایک بزرگ فرمانے لگے کہ: اللہ پاک نے یہ جوجسم ہمیںدیا ہے یہ ہمارے پاس اللہ کی امانت ہے اور اس کی حفاظت کرنا ہمارے ذمّہ ہے اگر ہم نے جسم کی حفاظت نہ کی تو قیامت کے دن اللہ کے سامنے ہم جوابدہ ہوںگے۔ غذا کے ذریعے، علاج کے ذریعے، استعمال کے ذریعے جسم کی حفاظت ہمارے ذِمّے ہے اور پھر اللہ والے بزرگ نے فرمایا :اس کی حفاظت کا سب سے بہترین سامان اللہ پاک نے اعمال کو بنایا ہے۔ علاج سے ہماری نظر فوراًدوا پر جاتی ہے، علاج سے ہماری نظر فوراًدُعا پر نہیں جاتی۔ یہ جسم اللہ پاک کی ایک امانت ہے اور امانت اپنی ملکیت نہیں ہوتی، وہ کسی کی عطا کردہ ہوتی ہے اور جس کی عطا کردہ ہے اُس نے اپنی دی ہوئی امانت کا حساب لینا ہے،اپنی امانت کا جواب لینا ہے۔ اُس نے پوچھنا ہے کہ تونے میری امانت کی کتنے
فیصد قدردانی کی؟ہمارے جسم کا ہر ایک حصّہ امانت ہے اس امانت کے بارے میں اللہ پاک نے ہم سے پوچھنا ہے جسم کے ایک ایک حِصّے کے بارے میںاللہ پاک نے حساب لیناہے۔ آنکھ کے ذِمّے ایک کام ہے،اللہ پاک نے آنکھ کے بندہونے اور جھپکنے کا نظام دیا ہے تاکہ کل کو انسان یہ کہہ سکے کہ یااللہ آنکھ کے اندرتو یہ خصوصیت ہی نہیںتھی! اللہ پاک نے ہاتھ کے اندر پھیلنے اور سکڑنے کا نظام رکھا ہے تا کہ کل کو انسان یہ شکوہ نہ کرسکے۔ اللہ پاک نے ہمیںجو دماغ دیا ہے یہ دماغ اللہ پاک نے احکامِ الٰہی کو سوچنے کیلئے دیاہے۔انسان کا دماغ احکامِ الٰہی کیلئے اور دِل عشقِ الٰہی کے لیےبنایا گیاہے، جتنا دماغ بڑھتاجائےگا اتنا احکامِ الٰہی کی طرف آتا جائےگا۔ اگر یہ دماغ احکامِ الٰہی اور دل عشق الٰہی کی طر ف نہیں آرہا تو پھر یہ مرنے سے پہلے کے نظام کو سوچے گا اور مرنے کے بعد کے نظام کو یقینا بھول جائے گا۔ اس کے ذِمّے احکامِ الٰہی کی اور عشق الٰہی کی حیثیت ہی کچھ نہیں ہوگی۔ یہ مرنے سے پہلے کے نظام کو سوچے گا۔
شاہی قلعے لاہور کا طلسماتی حمام! سائنس آج بھی حیران
پہلے دور کے انسان مرنے سے پہلے کے نظام کو سوچتے تھے۔پہلے دور کے انسان آخرت پرمحنت کرتے تھے اوراللہ پر محنت کرتے تھے،جبکہ ہماری ساری محنت دنیا پر ہے اور ہماری ساری محنت مخلوق پر ہے۔ہمارے لیے کمپیوٹر مخلوق ہے، سائنس مخلوق ہے حتیٰ کہ حکیم کی دوا مخلوق، ڈاکٹر کی دوا مخلوق، کھانا مخلوق ،پانی مخلوق ہے۔ ساری کائنات کی ساری چیزیں مخلوق ، ہماری ساری محنتیں مخلوق پر ہو ئیں خالق پر نہیں ہوئیں۔پہلے دور کے انسان ساری محنتیںخالق پر کرتے تھے اس کا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ تھوڑی سی کوشش کرنے پر اللہ پاک جل شانہٗ ا نہیں بہت زیادہ عطا کر دیتے تھے۔آج کے سائنس دان اُس دور کے سائنس دان کے برابر ہو ہی نہیںسکتے ہیں۔
شاہی قلعہ جب انگریز وںنے لوٹا تو شاہی قلعے کے اندر ایک حمام تھا، اس حمام کے اندر گرمی میں ٹھنڈا پانی اور سردیوں میں گرم پانی آتا تھا۔یہ پانی کہاں سے آتا تھا کوئی سمجھ نہیں آتی تھی۔ بڑے بڑے ماہرین کو اس کی تحقیق پر لگایامگر ماہرین تحقیق کرنے کے باوجود اپنے اُس مقصد کو نہ پاسکے۔تو آخر کار اُس حمام کو توڑا تو دیکھا کہ ایک چراغ ہے وہ خود بخودجل رہا ہے، اس کا تیل کہاں سے آرہا ہے۔ بتّی کہاں سے آرہی ہے، کچھ پتہ نہیں چلا۔ پھرجل بھی ایک خاص سمت میں رہا تھا۔ہمارے پاس ایک ہاتھ کی لکھی ہوئی پرانی کتاب ہے جووالد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے دور کی ہے۔ والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو مطالعہ کا شوق تھااس لئے ہاتھ کی لکھی ہوئی کتب بہت زیادہ تھیں۔ ان کی کتاب میں ایک عمل ہے اوروہ عمل اب بھی ویسے ہی ہے۔ یہ علم کے طور پر کہہ رہا ہوں، تقدیر اللہ کے ہاتھ میں ہے کہ: ’’سرسوں کا تیل لیں اور ایک مخصوص پیالہ بنا ہوا ہواس میں ڈالیں، جس مریض کو آپ دیکھیں کہ اسکے بچنے کی امید نہیں ہے اُسکا قارورہ (پیشاب) لیں اس کاایک قطرہ پیالے میں ڈالیں،اب یہ دیکھیں کہ وہ کس سمت میں جاتا ہے، اس پیالے (باقی صفحہ نمبر56 پر )
(بقیہ: درس روحانیت و امن)
()میں سمتیں لکھی ہوئیں ہیں، شمال ، جنوب، مشرق، مغرب، مشرق شمال، جنوب مشرق ساری سمتیں اس پیالے میں لکھی ہوئی ہیں ۔ غور سے اس ایک قطرے کو دیکھیں کہ وہ کس سمت میں جارہا ہے ، جدھر وہ قطرہ جاتا ہے اس سمت کے بارے میں لکھا ہوا ہے۔ اِدھر جائے گا تو مریض بچ جائیگا،اِدھر جائیگا تو مریض کے ساتھ یہ ہوگا اِدھر جائیگا تو یہ ہوگا۔‘‘یہ میں علم کی بنیاد پر کہہ رہاہوں ۔ تقدیر اللہ کے ہاتھ میں ہے ، اللہ کا علم کامل ہے بندوں کا علم ناقص ہے۔ اُس دور کی جتنی بھی پرانی ریسرچ اور پرانی تحقیق کتابوں میں موجود ہے وہ آج بھی کامل ہے اور آج کا سائنسدان بھی اُسے جھٹلا نہیں سکتا۔ اسکی وجہ کیا ہے؟ اسکی وجہ یہ ہے کہ :اُس دور کے لوگوں کا زیادہ وقت خالق پر لگتا تھا اورتھوڑا وقت مخلوق پر لگتا تھا۔ جس چیز کے لیئے بندہ زیادہ محنت کرتا ہے اللہ اُس چیز کی خاصیت کوبندے کے سامنے کھول دیتا ہے۔ چنانچہ اللہ پاک نے اُن کے دل کو اُن کے سینے کو کھول دیا۔ (جاری ہے)
ا نوکھے روحانی وظائف اور راز ولایت پانے کیلئے
خطباتِ عبقری کا مطالعہ کریں
ہم درس سنتے ہیں‘ ہمیں کوئی پریشانی نہیں!
محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!امید ہے کہ آپ ٹھیک ہوں گے میں میڈیکل کی طالب علم ہوں اور ہاسٹل میں رہتی ہوں۔ہمارا میڈیکل کا پورا گروپ آپ کا درس بڑی چاہت سے سنتا ہے۔ ہم ہر جمعرات کو ہاسٹل میں آپ کے آن لائن درس کابہترین انتظام کرتے ہیں۔ اہتمام سے درس سنتی ہیں‘ مسنون دعائیں پڑھتی ہیں‘ ہمیں دوسری لڑکیاں بولتی ہیں‘ آپ اس طرح پڑھائی کیوں نہیں کرتیں جس طرح ہم کرتی ہیں‘ ہمارا گروپ جواب دیتا ہے کہ ہم درس سنتی ہیں‘ مسنون دعائیں پڑھتی ہیں ہمیں کوئی پریشانی نہیں ۔میںکامیابی کے لیےامتحانات کی تیاری کے ساتھ ساتھ کھلا درود پاک پڑھتی ہوں‘ اللہ کے فضل سے میں اچھے نمبرز سے پاس ہو جاتی ہوں۔ (اقصیٰ لیاقت،کراچی)
15 شعبان(شب برأت) تسبیح خانہ میں گزاریں!
شیخ الوظائف کاپرسوز درس‘ساری رات خصوصی عبادات‘
تہجد کے وقت شیخ الوظائف رقت آمیز دعا کروائینگے
روزہ رکھنے والے افراد کیلئے سحری کا انتظام
حضرت حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی (دامت برکاتہم) فاضل طب و جراحت ہیں اور پاکستان کونسل سے رجسٹرڈ پریکٹیشنز ہیں۔حضرت (دامت برکاتہم) ماہنامہ عبقری کے ایڈیٹر اور طب نبوی اور جدید سائنس‘ روحانیت‘ صوفی ازم پر تقریباً 250 سے زائد کتابوں کے محقق اور مصنف ہیں۔ ان کی کتب اور تالیفات کا ترجمہ کئی زبانوں میں ہوچکا ہے۔ حضرت (دامت برکاتہم) آقا سرور کونین ﷺ کی پُرامن شریعت اور مسنون اعمال سے مزین، راحت والی زندگی کا پیغام اُمت کو دے رہے ہیں۔ مزید پڑھیں